حکومت خیبر پختونخوا نے خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود اور تکنیکی مہارت کے لئے 200ملین روپے مختص کئے ہیں

حکومت خیبر پختونخوا نے خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود اور تکنیکی مہارت کے لئے 200ملین روپے مختص کئے ہیں اس مقصد کے لئے محکمہ صحت اور TEVTA کے ساتھ منصوبہ بندی آخری مراحل میں ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر نعیم خان نے یہاں سے جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر 60ملین روپے کی لاگت سے400۔افراد کا TEVTA کے ساتھ اندراج کیا جائے گا ۔انہیں تعلیم و تربیت اور ماہوار وظیفہ فراہم کیا جائے گا۔200۔افراد کو رہائش اور400کو طبی امداد فراہم کی جائے گی۔ شہر کے دو بڑے ہسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس سلسلے میں سروے میں این جی او کی خدمات لی جا رہی ہیں رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر نعیم خان نے بتایا کہ پلاننگ میں خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی نمائندہ فرزانہ اور بلیو وینس آرگنائزیشن کے قمر نسیم کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ کوئی بھی آرگنائزیشن یا خواجہ سرا اچھے شہری کے طور پر ہمارے ساتھ معاونت کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مختص شدہ رقم20کروڑ روپوں میں سے ابھی کوئی رقم خرچ نہیں کی گئی۔ابتدائی طور پر 6کروڑ کا پراجیکٹ منظور ہو چکا ہے جن کے ثمرات خواجہ سراؤں کو رہائش،تعلیم و فنی تربیت کی صورت میں بہت جلد ملنا شروع ہو جائیں گے۔انہوں نے خواجہ سراؤں سے درخواست کی کہ وہ اپنے آپ کو محکمہ سوشل ویلفیئر کے ساتھ رجسٹرڈ کروائیں اور ملک کی ترقی میں شانہ بشانہ کام کریں۔