سیاسی مجرموں نے اپنے مفادات کی خاطر قومی اداروں کو تباہ کیا وزیر اعلی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ نواز شریف اور اُن کی لیگ بھی نیا پاکستان بنانے کی باتیں کرتے ہیں۔ گزشتہ 30 سالوں میں اُنہیں نیا پاکستان بنانے کا خیال نہیں آیا ۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے باریاں مقرر کی ہوئیں ۔ یہ لوگ قوم کے مجرم ہیں۔ ان سیاسی مجرموں نے اپنے مفادات کی خاطر قومی اداروں کو تباہ کیا ۔ پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے نہیں دیا یہ باری باری ملک کو لوٹتے رہے ۔ واحد عمران خان ہے جس نے ان کی لوٹ مار کو چیلنج کیا اور سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کردیا ۔نواز شریف اﷲ تعالیٰ کی پکڑ کا شکار ہیں۔ایک وقت تھا کہ وہ کنٹینر پر تنقید کرتا تھا اور اب خود کنٹینر پر بیٹھنے پر مجبور ہے۔نواز شریف کہتے تھے کہ فیصلے سڑکوں پر نہیں ہوتے مگر آج خود سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اس کے غرور، تکبر اور قوم سے دغا بازی ان کو سڑکوں پر لے آئی ہے۔ یہ لوگ صرف ڈھانچا بنا کر افتتاح کر تے رہے ۔ ان کے دور میں بنائے گئے نہ سکول میں تعلیم نہ ہسپتال میں علاج اور نہ تھانے میں انصاف تھا ۔انہوں نے اداروں کو اپنا غلام بنا لیا تھا مگر اب عوام ان لوگوں کو پہنچان چکے ہیں یہ مزید دھوکہ نہیں دے سکتے تحریک انصاف کی اتحادی صوبائی حکومت نے 70 سال سے تباہ حال اداروں کو ٹھیک کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے ۔ عوام کے آسانی کیلئے قانونی سازی کی ۔اب ادارے سیاستدانوں کی غلامی کی بجائے عوام کی خدمت کرنے لگے ہیں۔ اصلاحات کا یہ تسلسل نئے پاکستان کی طرف عملی قدم ہے۔ عوام کو چاہیئے کہ وہ کاکا ، ماما اور چاچا کی پالیسی سے نکل کر ایماندار قیادت کا انتخاب کریں جو اداروں کو مضبوط کرکے ملک کو ترقیافتہ ، خوشحال اور خود کفیل بنانے کا عزم رکھتی ہو۔ وہ مصری بانڈہ کے علاقے مشک علی محمد کے پورے گاؤں کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر ضلع ناظم نوشہرہ لیاقت خان خٹک، ممبر صوبائی اسمبلی اور ڈیڈک کے چیرمین ادریس خٹک ،سابق ناظم فضل ربی، جمال شاہ اور نثار خان نے خطاب کیا جبکہ سکندر خان، جعفر خٹک، گلریز خان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف اللہ کی گرفت میں آچکے ہیں۔ ان کو غرور تکبر لے ڈوبا ہے ۔ تحریک انصاف کے خلاف کنٹینرز اور سڑکوں کی سیاست کی بات کرنے والے نوازشریف آج خود سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں اور کنٹینر پر بھی چڑھ چکے ہیں۔ چند ہفتوں میں ان کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمات کی سماعت شروع ہونے والی ہے۔ نوازشریف نہ گھبرائیں ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ ان سے لوٹی ہوئی قومی دولت کی ایک ایک پائی وصول کریں گے۔ کرپشن اور پاکستان مذید نہیں چل سکتا۔ پوری قوم پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ ہے۔ اوران کوسلام پیش کرتی ہے کہ انھوں نے حکمران ٹولے کو عدالتوں میں لے کر ائے۔ اس ملک کو ایماندار قیادت کی ضرورت ہے اورعمران خان ہی اس ملک کے آئندہ وزیر اعظم ہوں گے۔ تمام کرپٹ لوگوں کا بلا امیتاز احتساب ہوگا ۔ اور کسی کو نہیں بخشا جائے گاوزیراعلیٰ نے کہا دُنیا کی ترقی ایماندار قیادت کی وجہ سے ممکن ہوئی جس نے خود کو مضبوط کرنے کی بجائے اداروں کو با اختیار بنایا ۔اگر عوام اپنی قیادت کے انتخاب کیلئے درست فیصلہ کریں تو قدرت کی مدد بھی شامل حال ہو جاتی ہے۔ حالات بد ل جاتے ہیں اور ملک ترقی کرتا ہے ۔ جب عوام خود اپنے ہاتھوں سے چوروں کا انتخاب کرکے اُوپر بٹھا دیں تو پھر تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ سیدھی سیاست کی ہے ۔ دغا بازی سے کبھی کام نہیں لیاجبکہ ہمارے مخالفین ہماری ترقیاتی سکیموں پر سیاست کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے طور پر ایک گلی تک نہیں بنا سکے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کی تکالیف اور مسائل کی بنیادی وجہ اداروں کی نااہلی تھی ۔گلیوں ، سڑکوں کی تعمیر سے انفرادی مسئلہ تو حل ہو جاتا ہے مگر قومیں نہیں بنتی۔ ہمیں بحیثیت قوم گلیوں ، نالیوں سے نکل کر آگے سوچنا ہو گا۔ قومی ترقی اور خوشحالی کیلئے نظام بدلنا ہو گا۔بدقسمتی سے سیاسی مجرموں نے ہمیشہ اداروں پر سیاست کی اور عوام کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا۔ صوبے کی تاریخ میں یہ واحد حکومت ہے جس نے عوام کی تکلیف کا احساس کیا۔ عمران خان کے ویژن کے مطابق انسانی ترقی پر وسائل خر چ کئے۔ اداروں کو مضبوط اور با اختیار بنایا ۔ انھوں نے کہا کہ 45 ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کیے اٹھ ہزار سے زائد ڈاکٹر ز اوردس ہزار سے زائد پیرا میڈیکس سٹاف اور نرسیں میرٹ پر بھرتی کی گئی۔ اس سال بھی مذید بھرتیاں میرٹ پر ہوگی۔ تاکہ حقداروں کوان کاحق ملے اوربلا امیتاز سب کو میرٹ پر بھرتی کیا گیا ہے۔ ہم نے پولیس کو اختیار دیا مگر اس شرط پر کہ تھانے میں غریب سے نا انصافی اور بدمعاشی برداشت نہیں کریں گے ۔تین سال زبانی اختیارات دیئے اور اب قانون سازی کرکے اسے دیرپا بنا دیا۔ پولیس پہلے سیاسی لوگوں کی غلام تھی اب آزاد، بااختیار اور قوم کی خدمتگار ہے ۔ وزیراعلیٰ نے شعبہ تعلیم امیں اصلاحات دیتے ہوئے کہاکہ جب وہ حکومت میں آئے تو سکولوں میں نہ اُستاد تھا نہ فرنیچر ۔ صرف ایک ڈھانچے کا سکول کانام دے دیا گیا جس کی وجہ سے ناخوانداگی میں اضافہ ہوتا گیا کیونکہ غریب عوام پرائیوٹ اداروں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے ۔ سرکاری سکولوں پر اُنہیں اعتماد نہیں تھا ۔نیتجتاً وہ اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیجتے تھے ۔ شعبہ تعلیم میں دوسرا مسئلہ پرائیوٹ اور سرکاری سکولوں میں الگ الگ نظام تعلیم تھا ۔ صوبائی حکومت نے پرائمری کی سطح پر انگلش میڈیم کا آغاز کیا ہے تاکہ غریب کا بچہ بھی امیر کا مقابلہ کر سکے ۔ سکولوں کی سٹینڈرڈائزیشن پر 40 ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ پرویز خٹک نے کہا کہ صوبے کے ہسپتالوں کا بھی یہی حال تھا مگر اب صوبے بھر میں 100 فیصد ڈاکٹرز موجود ہیں اور ہسپتالوں میں طبی آلات کام کر رہے ہیں۔ صحت انصاف کارڈ صوبائی حکومت کا غریب دوست اقدام ہے جس کے تحت پچھلے سال 17 لاکھ مستحق خاندانوں میں کارڈ تقسیم کئے گئے ۔سالانہ 5 لاکھ روپے تک سرکاری اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج کی مفت سہولت حاصل کرسکتے ہیں۔ صحت انصاف کارڈ کا دائرہ اختیار بڑھایا جا رہا ہے ۔ اس سال مزید 10 لاکھ خاندانوں کو کارڈ فراہم کئے جائیں گے جو مجموعی آبادی کا 70 فیصد بن جائے گا۔ رشوت کی روک تھام کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ میں یہ دعویٰ تو نہیں کرتا کہ ہم نے صوبے میں کرپشن کا خاتمہ کردیا۔ تاہم عوام خود دیکھ رہے ہیں او رغیر جانبدار جائزاتی رپورٹ میں واضح ہے کہ خیبرپختونخوا میں بڑی حدتک کرپشن میں کمی اچکی ہے۔اداروں سے سیاست مداخلت ختم ہوچکی ہے۔ اور صوبے میں میرٹ او ر انصاف پر مبنی پالیسیاں نافذ العمل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے پہلے دن سے ملک میں کرپشن کے خلاف جو جہاد شروع کیا۔ وہ منطقی انجام تک پہنچ رہا ہے۔ سابقہ ادوار حکومت میں رشوت عروج پر تھی ۔ ایک مینا بازار لگا ہوا تھا ۔ ٹھیکے اور نوکریاں فروخت ہو تی تھیں۔ نتیجتاً اداروں کی کارکردگی صفر تھی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام اب کسی کو رشوت نہ دیں۔صوبائی حکومت نے بڑی سخت قانون سازی کی ہے جو سرکاری اہلکار رشوت طلب کریں رپورٹ کرے وہ قانون سے بچ نہیں پائے گا۔ اس ملک میں حرام خوروں کی بہتا ت ہے عوام کو انکی مزاحمت کیلئے اُٹھنا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ اب تک کسی کو بھی غریب کی فکر نہیں کسی بھی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور پر عمل نہیں کیا۔اور یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں غریبوں کا استحصال ہوتا رہا۔ اور غریب غریب تر اور امیر امیر تر کی پالیسی چلتی رہی۔ عمران خان کی سیاست اس سے بالکل برعکس ہے پی ٹی آئی کی سیاست کامحور غریب عوام ہیں۔ اور تحریک انصاف کے انتخابی منشور پر من وعن عمل کیاجارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف صوبے کے طول وعرض بلکہ پورے ملک میں عوام کی کثیر تعداد مختلف سیاسی جماعتوں سے پی ٹی ائی میں شامل ہورہی ہے۔ درحقیقت یہ پی ٹی ائی کی صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان پر بھر پور اعتمادکا مظہر ہے۔

Tags: