صوبائی حکومت صوبے میں ایک ہزار مائیکرو ہائیڈل پاور پراجیکٹ بنا رہے ہیں۔ محمود خان

خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل ، ثقافت ،میوزیم ، امور نوجوانان اور پاکستان تحریک انصاف ملاکنڈ ریجن کے صدر محمود خان نے کہا ہے خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے ملاکنڈ ڈویژن سمیت صوبے کے دیگر مختلف موزوں مقامات پر ایک ہزار مائیکرو ہائیڈل پاور پراجیکٹ بنا رہے ہیں جن سے صوبے میں توانائی بحران پر قابو پاسکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے صوبے باالخصوص ضلع سوات میں غیر ظالمانہ اور طویل لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے تو رمضان المبارک کے بعد وفاقی حکومت کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے اور پورا مینگور ہ شہر لاک کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقہ نیابت پی کے 84-مٹہ سوات میں مختلف مضافات آغل ، چمن لالئی اور دم کوٹ میں تنصیب شدہ مائیکرو پاور ہائیڈل پراجیکٹ کے منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر عوامی اجتماع خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ واضح رہے کہ مذکورہ مائیکرو پاور ہائیڈل پاور پراجیکٹس 15کلوواٹ ، 20کلوواٹ اور 25کلوواٹ کے منصوبے ہیں جن سے تقریباًتین سو مقامی گھرانوں کو بجلی کی سہولیات فراہم ہو سکے گی ۔محمود خان نے کہا کہ حلقے کو ترقی کے راہ پر گامزن کے لئے سڑکوں ، پلوں ، طبی و تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن ، پینے کے لئے صاف پانی کی فراہمی ، بجلی کی سہولیات جیسے منصوبوں کا وسیع جال پھیلایا گیا ہے جن سے علاقے میں خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو گا اور ماضی کی محرومیوں کا ازالہ ہو سکے گا ۔ انہوں نے کہا نہایت افسوس کی بات ہے کہ ماضی کے موقع پرست عوامی نمائندوں نے اپنی مفادات کی خاطر مذکورہ علاقے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے کاموں پر کوئی توجہ نہیں دی تھی جس سے یہاں کے عوام مایوسیوں کے شکار تھے لیکن پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی محروم اور نظر انداز شدہ علاقوں کی طرف بھر پور توجہ دی اور ان علاقوں کو ترقیافتہ علاقوں کے برابر لاکھڑا کیا ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ہر نمائندہ اپنے آپ کو عوام کا خادم سمجھتا ہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی موقع ضائع نہیں کریں گے ، ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم ہی حقیقی معنوں میں عوام کے خادم اور نمائندے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بعض نام نہاد اور موقع پرست سیاستدان آنے والے انتخابات کے لئے مختلف منفی پروپیگنڈے پھیلارہے ہیں لیکن وہ عوام کو گمراہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے اور ابھی سے ان کو اپنی شکست واضح طور پر نظر آرہی ہے اس لئے بوکھلاہٹ کے شکار ہیں ۔