Directorate of Information and Public Relations, Khyber Pakhtunkhwa

The Official gateway to Governmental Services of the Govt. of Khyber Pakhtunkhwa

ملک کی تاریخ کے پہلے گرلز کیڈٹ کالج مردان کی اپنی عمارت کا سنگ بنیاد دسمبر2017میں رکھا جائے گا۔عاطف خان

خیبر پختونخواکے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف خان نے کہا ہے کہ صوبے میں ملک کی تاریخ کے پہلے گرلز کیڈٹ کالج مردان کی 2ارب30کرو روپے لاگت کی اپنی عمارت کا سنگ بنیاد دسمبر2017میں رکھا جائے گاجس کا فرسٹ فیز6ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے اساتذہ کو مراعات دینے کے علاوہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ حل اور 29ارب روپے کی لاگت سے سکولوں میں بنیادی سہولیات فراہم کی ہیں اب ہماری اولین ترجیح ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی ہے جس کے لئے صوبے میں کوالٹی ایشورنس اتھارٹی قائم کی جارہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں مجوزہ کوالٹی ایشورنس اتھارٹی کے قیام سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔اجلاس میں سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر شہزاد بنگش اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔وزیر تعلیم نے کہا کہ ہماری حکومت کی تعلیمی اصلاحات اور اقدامات کا واحدمقصدصوبے کے ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی ہے اگر ہم اس اہم مقصد میں کامیاب نہیں ہوتے تو ہماری تمام تر کوششیں رائیگاں جائیں گی لہذا ہم اپنے بچوں کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہر حال میں تعلیمی اہداف حاصل کرلیں گے۔وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ تعلیمی اصلاحات کے نتیجے میں والدین کا سرکاری سکولوں پر اعتماد بحال ہواہے اوراب تک نجی تعلیمی اداروں کے ڈیڑھ لاکھ سے زائدبچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرایا گیاہے جو انتہائی حوصلہ افزاء امر ہے ۔ان کا مزیدکہنا تھاکہ ترقیافتہ خیبر پختونخوا کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے تعلیم کو عام کرنا ہوگا اور سرکاری سکولوں میں حقیقی تبدیلی لانی ہو گی کیونکہ ان سکولوں میں 40لاکھ سے زیادہ غریب اور متوسط طبقے کے بچے پڑھتے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمارا مقصد تعلیم کے شعبے سے کمائی کا حصول یا لوگوں کوروزگار فراہم کرنا ہر گز نہیں بلکہ نئی نسل کومعیاری تعلیم سے آراستہ کرکے اسے ملک و قوم کے لئے بہترین اثاثہ بناناہے یہی وجہ ہے کہ تعلیم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا میگا پراجیکٹ ہے جس کا بجٹ گزشتہ ساڑھے 4سالوں کے دوران61ارب روپے سے بڑھا کر 138ارب روپے کردیا گیاہے اور سرکاری سکولوں میں پہلی مرتبہ سزا و جزا کا نظام متعارف کرادیا گیا ہے۔ اعلیٰ کارکردگی پر اساتذہ کو لاکھوں روپے کے کیش انعامات جبکہ بری کارکردگی پر اساتذہ کے خلاف کارروائی کرکے ان سے کروڑوں روپے کی ریکوری بھی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت سرکاری سکولوں میں صرف بنیادی سہولیات کی فراہمی پراب تک 25ارب روپے خرچ کر چکی ہے اور 21لاکھ میں سے 14لاکھ بچوں کو فرنیچر فراہم کیا ہے جبکہ معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے 40ہزار اساتذہ خالصتاً میرٹ پر بھرتی کر دیئے گئے ہیں اور امسال مزید 15ہزار اساتذہ بھرتی کئے جارہے ہیں جس سے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوجائے گا ۔

Tags: ,