Directorate of Information and Public Relations, Khyber Pakhtunkhwa

The Official gateway to Governmental Services of the Govt. of Khyber Pakhtunkhwa

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے جرمن سفیر کی ملاقات

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے واضح کیا ہے کہ افغانستان میں امن سے ہماری دائمی خوشحالی کے راستے نکلتے ہیں اسلئے دُنیا پاکستان کی اس ضرورت بلکہ مجبوری کو کیوں نہیں سمجھتی کیونکہ افغانستان میں بدامنی کے ساتھ ہی نہ صرف پورے پاکستان کا امن متاثر ہوا بلکہ لاکھوں افغان مہاجرین کی وجہ سے ہماری صنعت و معیشت اور انفراسڑکچر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ ہم نے دُنیا کو دہشت گردی سے بچانے کی کوششوں میں اپنا امن بھی داؤ پر لگا دیا۔ اسلئے دہشت گردوں کے خلاف ہماری قوم ، فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کا نظر نہ آنا بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پاکستان میں نامزد وفاقی جمہوریہ جرمنی کے سفیرمارٹن کوبلرسے گفتگو کر رہے تھے۔ صوبائی محکموں منصوبہ بندی و ترقیات اور لوکل گونمنٹ کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ حکام بھی موقع پر موجود تھے۔ہماری فوج نے صرف تین سالوں میں قبائلی علاقوں کو دہشت گردوں سے کلیئر کر دیا مگر یہ بات بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ دنیا کی بہترین فوج خطیر وسائل کے باوجود افغانستان میں امن کے قیام میں ناکام کیوں ہے۔حیرت ہے کہ پوری دنیا افغانستان کو کنٹرول نہیں کر سکی بلکہ افغانستان اس کو کنٹرول کر رہا ہے۔ہم نے ہمیشہ افغان میں امن کی کوششوں میں تعاون کیا ہے اور آئندہ بھی کرینگے۔ مدارس میں دہشت گردی کے پنپنے کا تصور درست نہیں۔ غریب لوگوں کی ذہن سازی کر کے دہشت گردی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مجموعی عمل کی فنڈنگ کی جاتی ہے جس کو روکنے کی ضرورت ہے۔ خیبر پختونخوا بدل چکا ہے۔ ماضی کے ناسازگارواقعات کے تناظر میں موجودہ خیبر پختونخوا کی تصویر کشی درست نہیں۔ خیبر پختونخوا اب پر امن اور صنعت و تجارت کیلئے دیگر صوبوں سے زیادہ فیزیبل ہے صرف چین ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کار بھی صوبے میں سرمایہ کاری کیلئے آرہے ہیں جو خیبر پختونخوا میں امن اور صوبائی حکومت کے شفاف نظام کا مظہر ہے۔ خیبرپختونخوا میں امن عامہ کے متعلق تبادلہ خیال کے دوران وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں بدامنی اور خوف و حراس کا ماحول ماضی کا حصہ بن چکا ہے بین الاقوامی سطح پر صوبے کا مجموعی تصور بدل چکا ہے گذشتہ تین سالوں سے صوبے میں سرمایہ کاروں ، سیاحوں اورتاجروں کو مکمل تحفظ اور اطمینان ملا ہے اس وقت صرف پولیس اور آرمی کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فرنٹ لائن پہ دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں پاک فوج نے فاٹا کو بھی کنٹرول کر لیا ہے۔گزشتہ ایک سال سے ہمارا صوبہ کراچی اور لاہور سے بھی زیادہ محفوظ ہے ۔فاٹا وفاق کے زیر نگرانی ہے جسے خیبرپختونخوا میں ضم کیا جا رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ اورآپریشن خیبرٹو کے بہت مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ پشاو رمیں ریڈ زون کے علاوہ پشاوراور پشاور سے باہرجانے کیلئے این او سی کی ضرورت نہیں ہے۔صوبائی حکومت اس سلسلے میں وفاق سے بات کر چکی ہے جس پر عمل درآمد کرانے کیلئے مزید بات کریں گے ۔وفاق اُصولی طور پر اس سے اتفاق کرچکا ہے ۔صوبے میں طرز حکمرانی سے متعلق سفیر کے استفسار پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے تمام ادارے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کردیئے ہیں۔ پاکستان میں پہلی بار بلدیاتی حکومتوں کو وسائل کے ساتھ مکمل اختیارات دیئے گئے ۔ہمارا لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور پولیس کا نظام کسی طور بھی لندن، سکاٹ لینڈ اوردیگر ممالک سے کمزور نہیں بلکہ کئی فیچرز میں اُن سے بہتر ہے۔ہمارا سسٹم اتنا شفاف اور مضبوط ہے کہ ہم ترقیافتہ ممالک کے نظام سے مقابلہ کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں مسائل کی وجوہات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان کا بنیادی مسئلہ مرکزکی سیاسی قیادت پر عوام کا عدم اعتماد ہے۔ہمارے لاکھوں افراد ملک سے باہر ہیں جو قیمتی زرمبادلہ کما کر پاکستان بھیجتے ہیں مگر اس ملک میں سرمایہ لگانے سے ڈرتے ہیں۔ اس کی وجہ کرپٹ نظام ہے جس ملک کے اپنے حکمران اور سیاستدان اپنا کاروبار ملک سے باہر کرتے ہو ں وہ باہر والوں کو ملک میں سرمایا لگانے پر کس طرح آمادہ کر سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عوام نے عمران خان کی قیادت پر اعتماد کیا اور صوبائی حکومت نے اس کرپٹ سسٹم کو تبدیل کیا صوبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا صنعت ، توانائی، سیاحت ، معدنیات اور دیگر شعبوں میں سو سے زائد منصوبے صوبائی حکومت نے تیار کئے ہیں جن میں سے اہم منصوبوں پر چینی اور دیگر ممالک کی سرمایہ کار کمپنیوں کے ساتھ معاہدے ہوچکے ہیں۔اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومت ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ براہ راست معاہدہ کر سکتی ہے صوبائی حکومت نے صنعتی پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو بہترین مراعات دی ہیں کوئی بھی صنعت کار صوبے میں صنعت لگانے کیلئے ایک درخواست دیتا ہے تو ون ونڈو آپریشن کے ذریعے تمام سہولیات فراہم کر دی جاتی ہیں سی پیک کے تناظر میں صوبے میں 17 فنی تربیتی مراکز قائم کئے جا رہے ہیں اور یہ مراکز صوبے میں مجوزہ 17 صنعتی زون میں مطلوبہ ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی کیلئے بڑی اہمت رکھتے ہیں۔ صنعت کاروں کے مطالبے کے مطابق تربیت یافتہ افراد فراہم کئے جاتے ہیں۔موٹر وے پر چین کی کمپنی کے ذریعے چالیس ہزار کنال پر مشتمل انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کیا جا رہا ہے صرف چین ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت نے تبدیلی کے ایجنڈے کے تحت اداروں کو جوابدہ بنایا ہے ہماری پولیس اب مکمل طور پر آزاد ہے۔ مختلف صوبائی محکموں میں آزاد اور بااختیار بورڈز، کمپنیاں اور ادارے بنائے گئے ہیں جن میں پرائیویٹ سیکٹر کو 70 فیصد نمائندگی دی گئی ہے۔ اصلاحات کے مجموعی عمل کو دیرپا بنانے کیلئے ریکارڈ قانون سازی کی گئی ہے۔تعلیم اور صحت کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے سکولوں اور ہسپتالوں کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اربوں روپے خرچ کئے گئے ہیں ہمارے ہسپتالوں میں علاج مفت ہے افغان مریضوں کو بھی بلا امتیاز مفت علاج کی سہولت دی جاتی ہے ہم ہسپتالوں کو مشینری، سٹاف اور دیگر سہولیات سو فیصد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے تاکہ لوگوں کو دیگر اضلاع سے علاج کیلے پشاور نہ آنا پڑے یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا آج صوبہ بھر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز موجود ہیں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے غریب عوام کو حکومت کے منتخب کردہ سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی مفت سہولت دستیاب ہے۔ بلین ٹری سونامی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی صوبائی حکومت کی طرف سے تاریخ میں پہلی بار تین سال میں ایک ارب درخت اگانے کا ہدف پورا کیا گیا ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ صوبائی حکومت کی کارکردگی اور آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف کی ممکنہ پوزیشن کے حوالے سے سفیر کے استفسار پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کے آخری سال میں لوگ برسراقتدار پارٹی سے دور بھاگتے ہیں جبکہ ہمارے آخری سال میں عوام اور منتخب نمائندے تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں اس صوبے کی تاریخ ہے کہ یہاں کسی پارٹی نے دوبارہ حکومت نہیں بنائی مگر اب کی بار تاریخ بدلنے جا رہی ہے جرمن سفیر نے صوبائی حکومت کی اصلاحات اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ مغربی ممالک میں خیبر پختونخوا کا سافٹ امیج اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرینگے انہوں نے صوبے کے مختلف شعبوں خصوصاً انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں سرمایہ کاری کیلئے خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا اور صوبائی حکومت سے تیار منصوبوں کی فہرست طلب کی سفیر نے عندیہ دیا کہ وہ عنقریب متعلقہ صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اس سلسلے میں تفصیلی میٹنگ کرینگے تاکہ باہمی شراکت کے تحت سرمایہ کاری کے منصوبوں پر عملی پیش رفت ممکن ہو سکے۔

Tags: