پاکستان تحریک انصاف صوبے میں اپنی کارکردگی کی بدولت بھاری اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئے گی

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواپرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف صوبے میں اپنی کارکردگی کی بدولت بھاری اکثریت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئے گی ۔تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں میں فرق یہی ہے کہ تحریک انصاف کے منشور کا مرکز و محور عام آدمی ہے جبکہ روایتی سیاسی جماعتوں نے کبھی غریب کی فکر کی نہیں کی۔ یہ ملک صرف سرمایہ داروں کیلئے نہیں، غریب کا بھی ملکی وسائل پر برابر کا حق ہے مگر بد قسمتی سے سیاستدانوں نے غریب کو صرف ووٹ لینے کی حد تک استعمال کیااور ہر بار غریب کو نظر انداز کرکے بے خوف ہو کر لوٹ مار کرتے رہے۔ان لوگوں نے کبھی بھی عام آدمی کی فلاح کا نہیں سوچا ۔ اداروں کی تباہی سے سرمایہ دار طبقے کو کوئی فرق نہیں پڑتا، تکلیف عام آدمی کو ہوتی ہے ۔عوام کو چاہیئے کہ وہ ووٹ جیسی اہم آئینی حق کا استعمال سوچ سمجھ کریں اور یہ قومی امانت اہل کے سپر د کریں۔ الیکشن ایک دن کا کھیل نہیں بلکہ مستقبل کا معاملہ ہے۔ اس صوبے میں بھی کسی نے اسلام کے نام پر، آصف علی زرداری نے روٹی ، کپڑا، مکان اور اے این پی نے پختونوں کے نام پر عوام کو لوٹا ۔ آصف علی زردواری غریبوں کے روٹی کپڑا مکان سب کھاگیا ہے۔ اے این پی نے پختونوں کے نام پر سیاست کرکے پختونوں کابیڑہ غرق کردیا۔ آصف علی زرداری کس منہ سے اس صوبے میں سیاست کررہے ہیں جب وہ صدر تو انھوں نے اس صوبے کے کتنے دورے کیے۔ اور انھوں نے خیبرپختونخوا کے عوام کی پہلے کیاخدمت کی جواب یہاں آکردورے کررہے ہیں مولانا فضل الرحمن کا پوچھیں تک نہیں وہ تو ہر حکومت میں ہوتے ہیں۔ فضل الرحمن نے اسلام کے نام پر حکومت تو بنائی مگر وہ بتائیں کہ اسلام کے لئے اُنہوں نے کیا کیا۔ کیا اُنہیں علم نہیں تھا کہ قرآن مجیدکا ترجمہ و مفہوم ضروری ہے ۔ کیا وہ نہیں جانتے تھے کہ اسلام میں سود حرام ہے ۔ کیا اُنہیں خبر نہیں تھی کہ جہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے ۔وہ توعلماء تھے انہوں نے ہمیشہ ملک کی میں اسلامی نظام کی باتیں کی ہیں۔ ہر پاکستانی یہ سمجھتا ہے اور سمجھنا چاہیئے کہ یہاں اسلامی نظام ناگزیر ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فضل الرحمن کو موقع ملا اور انہوں نے صوبے میں حکومت بنا لی تو اسلام کیلئے کونسا اقدام کیا۔یہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ہے جس نے سکولوں میں ناظرہ قرآن اور ترجمعہ قرآن کو لازمی قرار دیا۔ سود اور جہیز کے خلاف قانون سازی کی ۔درسی نصاب کو اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ کرنے کیلئے علماء سے تجاویز طلب کیں اوراُن تجاویز پر عمل درآمد بھی کیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے زڑہ میانہ میں شمولیتی جلسے اور ہاؤسنگ سکیم نیو سٹی ضلع نوشہرہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔زڑہ میانہ میں صوبائی وزیر میاں جمشید الدین کاکاخیل ، گل ریز خان اور سماجی کارکن حاجی فضل ربی ، جمال شاہ نے بھی خطاب کیاجبکہ ا س موقع پر نادر خان، نیک محمد ، حاجی دلاور شاہ، تلاوت شاہ ، سعید خان، صفدر کاکا، نصیر احمد، نو رزمان محمد ، محمد زیب ، سید اوس خان اور دیگر نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ جلسے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس ملک میں پیپلز پارٹی ، ن لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے حکومتیں بنائیں مگر عوامی خوشحالی ، انصاف کی فراہمی کا کسی نے نہ سوچا۔ عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کسی نے فکر نہیں کی ۔عمران خان نے آکر تبدیلی کا نعرہ لگایااورحقدار کو حق کو فراہمی، میرٹ اور انصاف کی بالادستی اوربادشاہی نظام کی جگہ ایک منصفانہ اور شفاف نظام کے قیام کیلئے عملی جدوجہد کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ کوریا ، بنگلہ دیش ، ملائشیا جیسے ملک ترقی میں ہم سے آگے نکل گئے۔اُن کی ترقی کی وجہ اُن کا شفاف نظام ، اداروں کی مضبوطی اور ایماندار قیاد ت ہے جبکہ ہمارے ہاں ایماندار اور قوم دوست قیادت کا کئی دہائیوں سے فقدان رہا ہے۔ہمارے سیاستدان عوام سے ووٹ لیکر اپنا کام نکالتے رہے مگر عوام کو کیا تکلیف ہے کسی نے سوچا تک نہیں۔ امیر اور غرصوبائی حکومت نے صوبے میں سرکاری تعلیمی اداروں کیلئے اربوں روپے خرچ کئے آج کے سرکاری سکولوں کا اگر ماضی کے سکولوں سے موازنہ کریں تو فرق صاف نظر آئے گا۔ حکومت سرکاری سکولوں کو وہ تمام سہولیات فراہم کررہی ہے جو ماضی میں دستیاب نہ تھیں۔میرٹ پر اساتذہ کی بھرتیاں یقینی بنائی گئی ہیں۔وزیراعلیٰ نے عوام سے کہاکہ وہ اپنے بچوں پر توجہ دیں ۔انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کریں۔ مستقبل قابل اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ہے۔ہمارے صوبے کو بھی قابل اور لائق لوگوں کی ضرورت ہے۔محنت کریں اور آگے بڑھیں ۔ ہم نے امیر اور غریب دونوں کیلئے ترقی کے راستے کھول دیئے ہیں۔جو محنت کرے گا وہی آگے آئے گا کیونکہ ہمارے نظام میں رشوت ، کرپشن اور ناانصافی کی گنجائش موجود نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے صحت ، پولیس ، پٹوار اور دیگر شعبوں میں قابل عمل اصلاحات کی ہیں۔یہ تمام محکمے اب سیاستدانوں کی غلامی کی بجائے عوام کی خدمت کرنے لگے ہیں۔صو بے کیلئے دو الگ معیار قائم کئے گئے ۔ امیر ، امیر سے امیر تر ہوتا گیا اور غریب، دن بدن غریب میں دھنستا چلا گیا۔ جب تک اس ملک میں غریب کے استحصال پر مبنی نظام کو تبدیل نہیں کیا جائے گا، ترقی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ہمیں امیر اور غریب کے درمیان اس خلاء کو ختم کرنا ہوگااور اس مقصد کیلئے ملکی سطح پر ایک ایماندار قیادت کی ضرورت ہے جس کو اپنی لالچ نہ ہو بلکہ قوم کی فکر رکھتی ہو۔انہوں نے کہاکہ حالات نارمل ہیں جب بھی الیکشن کے دن قریب آتے ہیں تو دیگر سیاسی پارٹیوں کے رہنما نکل آتے ہیں اور تقریریں اور جلسے کرتے ہیں۔ ہمیں عوام پر بھر پور اعتماد ہے اور مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔ جب صوبے کے باشعور عوام سابقہ دور حکومت اور تحریک انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت کا موازنہ کریں گے۔تو عوام کو فرق صاف ظاہر ہوگا۔ اور پھر خود بخودعوام فیصلہ کریں گے۔اگرصوبے کے عوام نے اس صوبے کے نظام کو تباہ کرنا ہے کرپشن اورکمیشن کے سلسلے کو جاری رکھنا ، تعلیمی نظام کو تبا ہ کرنا ہے۔تو پھر وہ مفاد پرست لوگ ان کے لیے بہتر ہیں۔ اور اگر لوگ چاہتے ہیں کہ صوبے میں تبدیلی آئے۔ انصاف اور میرٹ پر فیصلے ہوں۔ عوام کی عزت نفس بحال ہو ، سفارش کلچر کاخاتمہ ہو ، عوام خوشحال رہیں اور پولیس میں کوئی سیاسی مداخلت نہ کرسکے۔ تو پھر عوام تحریک انصاف کاساتھ ضرور دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے کہ ہم کس خلوص نیت سے کام کررہے ہیں۔ میرا یقین ہے اللہ بہتر فیصلہ کرے گا۔ اور تحریک انصاف دوبارہ برسراقتدار آئے گی۔کوئی رات کو خواب میں دیکھنا چاہے کہ تحریک انصاف دوسرے لوگوں کو موقع دے گی۔ کیونکہ عوام کبھی بھی ایسے لوگوں کو موقع نہیں دیں گے جنھوں نے صوبے کا نظام تباہ وبرباد کردیاتھا۔ دہشت گردی اور لاقانونیت سے بھرا صوبہ تحریک انصاف کو چھوڑا۔صوبے کے انفراسٹرکچر ، ہسپتال، سکول اور پولیس کا محکمہ تباہ حال تھا۔کوئی بھی چیزانھوں نے نہیں چھوڑی۔ادارے رشوت سے بھر دئیے۔ہمیں بہت مشکل فیصلے کرنا پڑے۔ انشاء اللہ جو کام ہم سے رہ گیا ہے اس کو ضرور مکمل کریں گے۔حکومتی اصلاحات کے حوالے سے پرویز خٹک نے کہاکہ صوبائی حکومت نے صوبے میں سرکاری تعلیمی اداروں کیلئے اربوں روپے خرچ کئے آج کے سرکاری سکولوں کا اگر ماضی کے سکولوں سے موازنہ کریں تو فرق صاف نظر آئے گا۔ حکومت سرکاری سکولوں کو وہ تمام
سہولیات فراہم کررہی ہے جو ماضی میں دستیاب نہ تھیں۔میرٹ پر اساتذہ کی بھرتیاں یقینی بنائی گئی ہیں۔وزیراعلیٰ نے عوام سے کہاکہ وہ اپنے بچوں پر توجہ دیں ۔انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کریں۔ ہم نے امیر اور غریب دونوں کیلئے ترقی کے راستے کھول دیئے ہیں۔جو محنت کرے گا وہی آگے آئے گا کیونکہ ہمارے نظام میں رشوت ، کرپشن اور ناانصافی کی گنجائش موجود نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے صحت ، پولیس ، پٹوار اور دیگر شعبوں میں قابل عمل اصلاحات کی ہیں۔یہ تمام محکمے اب سیاستدانوں کی غلامی کی بجائے عوام کی خدمت کرنے لگے ہیں۔شعبہ تعلیم اور شعبہ صحت میں حکومتی اقداما ت کا ذکر تے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ آج صوبہ بھر کے سکولوں اور ہسپتالوں میں سو فیصد عملہ موجود ہے ۔ وہ تمام اضافی سہولیات جو ماضی میں میسر نہ تھیں آج فراہم کی جارہی ہیں۔ غریب کے علاج کا بندوبست کرنے کیلئے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا گیا۔یہ کارڈ ہر گاؤں تک پہنچ چکا ہے۔جس کے تحت سالانہ 5 لاکھ روپے تک حکومت کی طرف سے منتخب کردہ سرکاری اور پرائیوٹ ہسپتالوں میں علاج کی مفت سہولت فراہم کی جارہی ہے۔رواں سال مزید 10 لاکھ کارڈ کی تقسیم جاری ہے۔اس طرح اس سہولت سے مستفید ہونے والے مستحق خاندانوں کی کل تعداد 24 لاکھ ہو جائے گی۔

Tags: