Directorate of Information and Public Relations, Khyber Pakhtunkhwa

The Official gateway to Governmental Services of the Govt. of Khyber Pakhtunkhwa

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر عائد فیس ٹیکس نہیں بلکہ سیس ہے۔ سراج الحق

15-7-13-Senior-Minister Finance

خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر برائے خزانہ اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر عائد فیس دراصل ٹیکس نہیں بلکہ ایک سیس ہے جو سرحد پار درآمدات و برآمدات میں مصروف بھاری ٹریفک کے زیراستعمال شاہراہوں کی دیکھ بھال اور سیکورٹی سمیت خدمات پر لاگو ہو گا اور اس کا اطلاق صرف ٹرانزٹ ٹریڈ ہی نہیں بلکہ تمام تجارتی مال پر ہو گا وہ اپنے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں حسن شنواری اور احسن گورواڑہ کی زیرقیادت افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے وابستہ تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کے نمائندہ وفد سے باتیں کر رہے تھے جس نے ٹرانزٹ ٹیکس کے حوالے سے اپنے بعض تحفظات سے انہیں اگاہ کیا صوبائی ایڈیشنل چیف سیکرٹری خزانہ صاحبزادہ محمد سعید اور محکمہ خزانہ کے دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ٹیکس کے قانونی جواز سے متعلق سراج الحق نے واضح کیا کہ یہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کی شق 32کے تحت لاگو کیا گیا ہے اور یہ اقدام صوبے اور یہاں کے عوام کے وسیع تر مفاد میں اٹھایا جا رہا ہے تاہم اس ضمن میں تاجر برادری کی تجاویز و سفارشات کا بھی فراخدلی سے خیرمقدم کیا جائے گا سراج الحق نے واضح کیا کہ سیس کے بدلے صوبائی حکومت درآمد و برآمدکنندگان کو ہر قسم سہولت مہیا کرے گی انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے پاکستان و افغانستان میں بنیادی چیز پائیدار امن کا قیام ہے جو دونوں ممالک کے علاوہ پورے خطے کے مفاد میں ہے درحقیقت خطے کی بقا کا انحصار معاشی خود مختاری پر ہے انہوں نے اس بات سے اتفاق کیاکہ ماضی میں عوام کا خون نچوڑ کر ٹیکس تو حاصل کیا گیا مگر وہ انکی فلاح و بہبود کی بجائے کرپشن کی نظر ہوتا رہا تاہم اب ایسا ہر گز نہیں ہو گا ہمارے نزدیک ٹیکس کے حصول سے زیادہ اہم کام اس رقم کا صحیح اور شفاف استعمال ہے انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صوبائی حکومت تبدیلی کے ایجنڈے کے ساتھ برسراقتدار آئی ہے جو بھاری بھر کم سود پر قرضوں کے حصول کی بجائے اپنے وسائل میں اضافے پر توجہ دے رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ سیس ہمارے قومی مفاد اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق عائد کیا جا رہا ہے کیونکہ ہمسایہ ممالک میں بھی اسطرح کے ٹیکس پہلے سے لاگو ہیں وفد نے سینئر وزیر کے استدلال اور وضاحت سے اتفاق کرتے ہوئے درخواست کی کہ یہ سیس اشیائ کی بجائے مال بردار گاڑیوںکی بنیاد پر وصول کیا جائے تو انہیں زیادہ سہولت ہو گی جس پر انہوں نے مناسب غور کا یقین دلایا۔

About

POST YOUR COMMENTS