ہم نے عوامی اُمنگوں کے مطابق سود اور جہیز جیسے ناسور کے خاتمے اور سکولوں میں قرآن ناظرہ و باترجمہ سمیت وہ اسلامی قوانین نافذ کئے

وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے علماء پر زور دیا کہ وہ صوبے میں اسلامی قوانین کے نفاذ اور معاشرے کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کیلئے ہمیں مخلصانہ تجاویز دیں تو انہیں عملی شکل دینے میں دیر نہیں لگائی جائے گی کیونکہ ہم نے عوامی اُمنگوں کے مطابق سود اور جہیز جیسے ناسور کے خاتمے اور سکولوں میں قرآن ناظرہ و باترجمہ سمیت وہ اسلامی قوانین نافذ کئے جن کی توفیق ماضی میں دینی جماعتوں کی حکومت کو بھی نہیں مل سکی تھی انہوں نے کہا ہماری حکومت نے صوبے میں نظام درست کرنے اور عوام کو کرپشن کے ناسور سے نجات دلانے اور ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے اسی طرح ہم دین اسلام کی بھی بات کر تے ہیں اور اس کے لئے صوبے کے علماء کرام آگے آکر ہماری رہنمائی کریں اور ہمیں روڈ میپ دیں کہ ہم ایک خالصتاً اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے کیا اقدامات اُٹھا سکتے ہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے صوابی میں دارالقر آن پنج پیر میں سالانہ دورہ تفسیر کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر جماعت اشاعت التوحید و السنت کے مرکزی امیر شیخ القر آن مولانا محمد طیب طاہری اور آئی ایس آئی اسلام آباد کے سابق چیف میجر(ر) محمد عامر نے اپنی تقاریرمیں عدل و انصاف ، میرٹ و قانون کی بالادستی، کرپشن کے خاتمے اور عوام کی حقیقی ترقی کیلئے پرویز خٹک کی قیادت میں صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہا اور اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا جبکہ سپیکر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر ، صوبائی سینئر وزیر برائے صحت و انفار میشن ٹیکنا لوجی شہرام خان ترکئی ، ایم این اے عثمان خان ترکئی ، ناظم ضلع نوشہرہ لیاقت خٹک ، ضلعی صدر پی ٹی آئی انور حقداد ، ڈی سی صوابی معتصم باللہ شاہ ا ور دیگر علماء و طلباء کی کثیر تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی ۔ پرویز خٹک نے کہا کہ اس صوبے میں ایم ایم اے اور علماء نے بھی حکومت کی تھی لیکن دین اسلام کے لئے کسی قسم کی خدمت نہیں کی ۔ اقتدار میں آنے سے قبل میں دارالقر آن پنج پیر میں مولانا محمد طیب سے دُعالینے آتا تھا تاکہ ہم اقتدار میں آکر عوام اور دین کی بہتر طریقے سے خدمت کر سکیں جس طرح ہم نے اپنی حکومت میں عوام کی خدمت ، صوبے کی ترقی ، اداروں کو درست کرنے اور تبدیلی کا ایجنڈا پایا تکمیل تک پہنچایا ۔ اسی طرح میری یہی سوچ ہے کہ انصاف پر مبنی نظام کے ساتھ ساتھ دین کی بات بھی کی جائے انہوں نے کہا کہ نئے بجٹ میں چار ہزار مساجد کو سولر سسٹم سے منسلک کرنے کے لئے دو ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں اسی طرح دارالعلوم حقانیہ ، جامعہ اضا خیل ، جامعہ ڈاک اسماعیل خیل سمیت دیگر مختلف مدارس کے لئے خاطر خواہ ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا دیا گیا انہوں نے دارالقر آن پنج پیر کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے اور دن رات بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے سولر سسٹم کی تنصیب کا اعلان کر تے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی ہمیں ہمت اور توفیق دے کہ اپنے دین ، قوم اور ملک کی بہتر طریقے سے خدمت کر سکیں انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے صوبے سے سود جیسی لعنت کے خاتمے کے لئے قانون سازی کی جس کے تحت سود خوروں کو گرفتار کر کے ان کے ساتھ عملی طور پر حساب کتاب کیا سود نہ صرف ایک لعنت ہے بلکہ مجبور لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی بھی ہے کیونکہ سود خورضرورت مند لوگوں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں اسی طرح دین اسلام میں جہیزکی اجازت نہیں ہے ہم اس کے لئے بھی سمری تیار کر کے قانون سازی کررہے ہیں تاکہ ہم اپنے صوبے میں دین اسلام کے تقاضوں کے مطابق اپنی حکومت چلا سکیں انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں لوگ قر آن پاک سن اور پڑھ سکتے ہیں مگر اس کے معنی سے بے خبر ہیں اس مقصد کے لئے ہماری حکومت نے عملی اقدامات اُٹھائے جس کے مطابق پہلی سے پانچویں جماعت تک بچوں کو ناظرہ قرآن جبکہ چھٹی سے میٹرک تک قر آن پاک با ترجمہ سرکاری سکولوں میں لازمی پڑھایا جائیگا اور اسے بطور لازمی مضمون رائج کیا گیا تاکہ ہمارے بچے قرآن اور دین کو سمجھ کر بہتر طریقے سے اپنی زندگی بسر کر سکیں انہوں نے کہا کہ تعلیمی نصاب میں ماضی میں جو غلطیاں کی گئیں یا اسلامی اسباق نکالے گئے تھے ان کا ازالہ کر کے قر آن وسنت کے اسباق نصاب میں شامل کئے گئے تاکہ ہمارا نصاب دین اسلام کے مطابق ہو انہوں نے علماء سے اپیل کی کہ وہ دین اسلام کے حوالے سے ہماری حکومت سے تعاون کر کے ہمیں شرعی قوانین کے حوالے سے اپنی تجاویز سے آگاہ کریں اس پر بھر پور عمل کر کے حکومت ضروری قانون سازی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام نے جو بھی تجاویز ہمیں دی ہیں ان پر ہماری حکومت نے ہمیشہ عمل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آنی جانی چیز ہے جب تک ہم حکومت میں ہیں تو اسکے ذمہ دار ہیں۔ اگر ہماری حکومت نہ ہو تو پھر ہم اس کے ذمہ دار بھی نہیں ہونگے مگر دین اسلام کے حوالے سے ہم سب ذمہ دار ہیں اور ذمہ دار ہونگے۔